ادارہ ادب اسلامی بتیا نے منایا جشن یوم جمہوریہ
بتیا 27 جنوری
ادارہ ادب اسلامی بتیا کی جانب سے مدرسہ اسلامیہ بتیا میں 26 جنوری کو بعد نماز ظہر یوم جمہوریہ کے موقع سے ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی - جس کی صدارت سبکدوش ہیڈ ماسٹر جناب مجیب الحق نے فرمائی جبکہ نظامت کا فریضہ ادارہ کے صدر ڈاکٹر محمد قمرالزماں قمر نے ادا کیا- جناب قربان ندوی نے تلاوت کلام پاک مع ترجمہ سے پروگرام کا آغاز کیا- عبدالرحمن نے بارگاہ رسالت میں نعت پاک سے نذرانہ عقیدت پیش کیا- "چھبیس جنوری اور ہمارا آئین" کے عنوان سے جناب شمیم احمد ڈائرکٹر پاراڈائیز اسکول بتیا نے نہایت ہی معلوماتی اور شاندار مقالہ پیش کیا - شہر کے مشہور سینیئر ایڈوکیٹ نکھل چند پانڈے نے یوم جمہوریہ کے حوالے سے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ سنودیدھان دیش کے تمام ناگرک کو برابری کا حق دیتاہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سنویدھان کے مطابق عمل کرتے ہوئے دیش میں امن و امان قائم رکھیں اور آئین کی حفاظت کے لئے سرگرم عمل رہیں- تقریب کی خاص بات یہ رہی کہ ادارہ ادب اسلامی ہند بتیانے مدرسہ اسلامیہ سے فارغ حفاظ کو میڈل دیکر ان کا حوصلہ بڑھایا اور انہیں مبارکبادیاں دیں- میڈل پانے والے حفاظ میں محمد صادق علی، محمد واحد،محفوظ علی،محمد شاہد، وسیم عالم، مصطفی اصغر، معصوم علی ، صفران، مسرورالحق، منتشر عالم ، حبیب الرحمن ، محمد افتخار، عبدالرحیم، ضیاءالرحمن، محمد جنید اور اسجد کا نام شامل ہے - ان تمام بچوں کو جناب مجیب الحق،جناب،افتخار وصی عرف کریک بتیاوی،جناب محمد علی امیرمقامی جماعت اسلامی بتیا،جناب ڈاکٹر عبدالکریم، جناب شمیم احمد، جناب نکھل چند پانڈے ایڈوکیٹ، جناب انیل انل،جناب ارون گوپال،جناب ڈاکٹر گیانیشور گنجن، جناب سید محمد شہاب الدین، جناب محمد عثمان،جناب پروفیسر محسن عالم وغیرہم نے اپنے ہاتھوں سے میڈل پہنایا اور دعاؤں سے نوازا- دوسرے دور میں شعراء و کویوں نے اپنے کلام سے سامعین محظوظ کیا, ان میں ڈاکٹر گیانیشور گنجن،انیل انل،ارون گوپال، نکھل چند پانڈے، افتخار وصی اور ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر کا نام شامل ہے- جناب مجیب الحق صاحب کے صدارتی خطبہ کے بعد ادارہ کے سکرٹری فہیم حیدر ندوی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد تقریب کے اختتام کا اعلان ہوا- تقریب میں شمیم حیدر، نسیم حیدر اور شمشاد صیفی اور محمّد عادل کا اہم رول رہا- کثیر تعداد میں لوگوں کی شرکت نے تقریب کو باوقار اور یادگار بنا دیا-
Comments
Post a Comment