الفلاح اسکول میں استقبال رمضان کا پروگرام منعقد ہوا
بیتیہ، بہار۔
شہر بتیا کے مشہور اسکول الفلاح اسکول میں طلبہ وطالبات نے استقبال رمضان کا پروگرام منعقد کیا۔ بچوں نے مختلف عناوین سے رمضان کا پرزورخیرمقدم کیا۔ پروگرام کا آغاز درس قرآن سے صبح ساڑھے نو بجے ہوا۔ درس قرآن کی ذمہ داری کلاس ہشتم کے طالب علم عزیزم فیصل عبداللہ ادا کی۔ بعدہ تقاریر و نظموں کا سلسلہ جاری ہوا۔ بچوں نے اپنی کلام سے رمضان کی بابرکت ساعتوں کا دلوں میں جوش بھر دیا۔ پورے رمضان اعمال صالحہ کے لئے پر عزم کردیا۔اس پروگرام نے بچوں اور بڑوں میں رمضان کی اہمیت کو تازہ کردیا۔ واضح رہے اس اسکول میں ہر سال استقبال رمضان کا پروگرام منعقد ہوتا ہے۔یہ پروگرام اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اپنی تقریر پیش کرتی ہوئی صدیقہ یاسمین نے کہا کہ رمضان ہمیں صبر و استقامت سکھاتا ہے۔ صرف بھوکے رہنا روزہ نہیں۔ کلاس ہفتم کے عبدالصمد اور ان کے ساتھیوں نے رمضان پر نظم پیش کی۔اس موقع پر اسکول کے جید استاد مولانا نیاز احمد صاحب قاسمی نے رمضان کی اہمیت پرخطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ روزہ پہلے کے لوگوں پر فرض تھا۔اس میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ اسے بار نہ سمجھیں۔رمضان میں قرآن سمجھ کر پڑھناچاہئیے۔ عزیزہ صفا پروین نے کہا رمضان اور وقت میں گہرا تعلق ہے۔ فرحت جہاں اور ان کی سہیلیوں نے رمضان کو خوش آمدید کہتے ہوئے نظم پیش کی۔نوشین فاطمہ نے کہا کہ رمضان کامیابی کا مکمل نصاب ہے۔درجہ دوم کے عثمان محسن نے کہاکہ رمضان کا قدر کرناچاہئے۔ شیخ صاحبہ نے کہا کہ انسان کی زندگی میدان امتحان ہے۔ گناہ میٹھا لگتاہے مگر انجام کڑوا ہوتا ہے۔عزیزم صفی اللہ نے کہاکہ روزہ غریبوں کی بھوک و پیاس کا احساس دلانے کیلئے آتا ہے۔ ایک طالبہ نے کہاکہ روزہ تمام اعضاء کا ہوتاہے۔ عافیہ سرفراز نےکہاکہ رمضان تین حصّوں میں منقسم ہے۔ رحمت ، مغفرت اور آگ سے خلاصی۔ یہ مہینہ صبر کا درس دیتا ہے۔ شیخ سہانا نے ہندی ایک تقریر پیش کی۔ تحریم خاتون اور ان کی جماعت نے رمضان کے فیوض وبرکات پر نظم پیش کی۔ صالحہ بیگم نے تقریر پیش کرتے ہوۓ کہا۔رمضان ٹرینڈ نہیں بلکہ ٹریننگ ہے۔ ہمیں آپ کو اس مہینے میں ٹریننگ دینے کی ضرورت نہیں۔ یہ مہینہ نفس کو کم زور اور روح کو تقویت دیتا ہے۔ محمد حنظلہ نے کہا روزہ دار اللہ کے بے حد قریب ہوتا ہے۔حماد عالم نے کہا کہ بھوکے رہنے کو رمضان نہیں کہتے۔رمضان کا معنی جلا دینا ہوتاہے۔ شیطان رمضان میں قید ہوجاتاہے پھر لوگ بہک کیسے جاتے ہیں؟ اصل میں نفس ہمارا شیطان ہوتا ہے۔ نماز پڑھنے اور قائم کرنے میں فرق ہوتا ہے ۔ درجہ چہارم کی طالبات نے رب کی خوشنودی پر نظم پیش کیں۔ آخر میں اسکول کے ڈائریکٹرصاحب نے اپنی مفید باتوں سے نوازا۔ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تمام انسانوں کاخالق ہے۔ اللہ کو سامنے رکھنا روزہ و نماز کا مقصد ہے۔ رمضان ہماری نسل کے لئے آخری موقع ہے۔ رمضان پانے کے باوجود بخشش نہ ہونے والا ملعون ہے۔ اللہ سے رابطہ کیجئے۔روزہ خدا سے قریب ہونےکا نام ہے۔
آج جو ہوابراہیم سا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا
اگرہم اپنے رویے کو نہیں بدلیں گے تو دو ہزار پینسٹھ تک ہم پریشان رہیں گے۔ قرآن نے ہر بات کا تذکرہ ہے۔
Comments
Post a Comment