قومی اساتذہ تنظیم بہار کا انتخاب مکمل، محمد رفیع صدر منتخب

 
 محمد رفیع صدر منتخب ہوئے ہیں امید ہے کہ وہ پوری ٹیم کو ساتھ لے کر مضبوطی کے ساتھ اردو اور اساتذہ کے مسائل کو حل کریں گے اور تنظیم کو وسعت عطا کریں گے : محمد تاج الدین 

ہمارا کام تنظیم کی شاخ پورے بہار میں قائم کرنا، تمام عہدیداروں، اراکین و معاونین کا احترام کرنا، ٹیم اسپریٹ سے کام کرنا، سرکار و محکمۂ تعلیم کی غلطیوں پر انہیں ان کی راہنمائی کے لئے فوری قدم اٹھانا، ضرورت پڑنے پر احتجاج کرنا اور غلط پالیسیوں کے خلاف تحریک چھیڑنا وغیرہ : محمد رفیع 
محمد آصف عطا
حاجی پور‌/ مظفر پور
محکمۂ تعلیم صرف نیماولی (ضابطہ) بنانے کے لئے رہ گئی ہے۔ ایک نیم، دستی نافذ بھی نہیں ہوتا ہے کہ دوسری نیاماولی بن جاتی ہے جس سے اساتذہ کا بڑا نقصان ہوا ہے اور وہ ذہنی طور پر منتشر ہے، جس کے درس و تدریس پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ باتیں محمد رفیع نے قومی اساتذہ تنظیم بہار کے انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2006 میں پرارمبھک سکچھک نیوجن نیاماولی، 2012 میں بہار نگر پرارمبھک سکچھک نیوجن نیاماولی، 2023 میں بہار راجیہ ودیالیہ ادھیاپک نیاماولی، بہار راجیہ ودیالیہ سکچھک (نییوکتی، استھاننترن، انوشاسناتمک کاروائی اور سیوا شرط) نیم، 2023 کہا جاتا ہے، 2023 بہار ودیالیہ وشسٹ سکچھک نیاماولی اور 2026 بہار راجیہ سکچھک استھانانترن نیاماولی خاص ہیں۔ 
 قومی اساتذہ تنظیم بہار کے قیام کے 9 سال بعد پہلی بار آج 22 جولائی کو تنظیمی انتخاب کا عمل مکمل ہوا اور ریاستی کنوینر محمد رفیع متفقہ طور پر ریاستی صدر منتخب ہوئے، محمد رضوان، رکن ریاستی مجلس عاملہ و آج کے انتخابی اجلاس کے ریٹرننگ افسر نے نامزدگی پرچہ تسلیم کیا اور صدر کے عہدہ کے لئے صرف ایک نام محمد رفیع کا آنے پر بلا مقابلہ منتخب ہونے کا اعلان کر محمد رضوان نے محمد رفیع کو سند پیش کیا اور قومی اساتذہ بہار کا صدر منتخب ہونے پر انہیں مبارکباد پیش کیا، اس کے بعد موجود لوگوں نے پھول مالا سے انہیں لاد دیا۔ صدر منتخب ہونے کے بعد محمد رفیع نے قومی اساتذہ تنظیم بہار کے اغراض و مقاصد کو دوہراتے ہوئے کہا کہ 
اردو زبان کی درس و تدریس کو یقینی بنانا۔ 
اساتذہ کے مسائل، خصوصی طور پر اردو اساتذہ کے مسائل ہماری اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ محمد رفیع نے کہا اس سے پہلے ہماری کوشش ہوگی نو منتخب کمیٹی کے تمام عہدیداروں کو ایک ساتھ منظم طریقے سے لے کر ہم آگے بڑھیں گے اور تمام مسائل سے مقابلہ کریں، ہمارا کام تنظیم کی شاخ پورے بہار میں قائم کرنا، تمام عہدیداروں، اراکین و معاونین کا احترام کرنا، ٹیم اسپریٹ سے کام کرنا، سرکار و محکمۂ تعلیم کی غلطیوں پر انہیں ان کی راہنمائی کے لئے فوری قدم اٹھانا، ضرورت پڑنے پر احتجاج کرنا اور غلط پالیسیوں کے خلاف تحریک چھیڑنا وغیرہ، ضرورت کے مطابق ہم احتجاج بھی کریں گے اور اردو زبان، اردو زبان کے طلبہ اور اساتذہ کے حق میں اگر تحریک چلانی پڑے گی تو چالائیں گے۔ صدر کے ساتھ ہی  ریاستی کمیٹی کے مختلف عہدوں کے لئے بھی تجاویز آئے، پرچہ نامزدگی داخل ہوا جسے متفقہ طور پر قبول کر لیا گیا، بلا مقابلہ سبھی عہدوں پر لوگ منتخب ہوئے، سرپرست عبد الحسیب، نائب صدر کے عہدہ پر رضی احمد، ذاکر حسین صدیقی (سمستی پور) ، پرنسپل سیکریٹری محمد تاج الدین، خازن محمد جاوید عالم، میڈیا انچارج وقار عالم، جنرل سیکریٹری و ترجمان شمشاد احمد ساحل، جنرل سیکریٹری محمد ممتاز الحق، محمد منہاج ربانی (سیتامڑھی)، ترجمان محمد شاہ نواز عطا (ویشالی)، سیکریٹری شاکر رضا (سمستی پور ضلع انچارج)،  ابرار احمد صدیقی (سارن و سارن ضلع کنوینر)، بشریٰ پروین (مظفر پور)، محمد اکبر علی (ویشالی)، اشرف الاسلام ندوی (گوپال گنج)، تنظیمیںی سیکریٹری نسیم اختر (مظفر پور)، دربھنگہ کمشنری انچارج مع دربھنگہ ضلع کنوینر شوکت علی، محمد علی ظفر سارن کمشنری انچارج، مظفر پور ضلع صدر صبغت اللہ رحمانی اور گوپال گنج ضلع کا کارگزار صدر نبی اللہ احسن کو منتخب کیا گیا۔ سبھی کامیاب عہدیداروں کو سند تفویض کی گئی اور پھولوں کا مالا پہنا کر انہیں مبارکباد پیش کی گئی۔ اس موقع پر صدر محمد رفیع نے کئی اور مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اس کے خلاف آواز بلند کرنے پر زور دینے کی بات کہتے ہوئے بتایا کہ 

اسکول سے بچوں کی صحیح تعداد نہیں ملنے سے اساتذہ اور بچے دونوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے، جس طرح 90 فیصدی اردو اسکولوں میں غیر اردو داں ہیڈ ماسٹر کی پوسٹنگ کر ہمارے ماحول کو خراب کر دیا ویسے ہی ایک بار پھر سے اردو اساتذہ کو ریشنلائزیشن اور ٹرانسفر پوسٹنگ کے نام پر پورا نظام بگاڑنے کی سازش چل رہی ہے۔ 
دوسری سرکاری زبان اردو کی لازمیت کو ختم کرنے والی حکومت نے
بہار کے سبھی 38 ضلوں کے 534 بلاکوں میں 551 ماڈل اسکول کا نام سرسوتی ودیا نیکیتن نام رکھ کر اسکول کی بلڈنگ کو بھگوا رنگ کر دیا، کیا اس سے تعلیمی نظام درہم برہم نہیں ہوگا؟ یعنی جان بوجھ کر سیکولر ملک میں ایک مذہب کی تعلیمات و طور طریقوں کو تھوپنے کی سازش ہو رہی ہے جو افسوسناک ہی نہیں بلکہ قابل مذمت ہے اور اس کے خلاف ایک جوٹ ہو کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 
آج کی انتخابی اجلاس کا آغاز حافط رضوان اللہ کے تلاوت کلام و نعت پاک سے ہوا۔ تعارفی کلمات و اجلاس کی شروعات کرتے ہوئے پرنسپل سیکریٹری محمد تاج الدین نے کہا کہ تنظیم کے قیام کے دنوں سے ہی جناب محمد رفیع نے دیوانہ وار اردو زبان کے فروغ، درس و تدریس اور اساتذہ کے مسائل کو لے کر قومی اساتذہ تنظیم بہار کی فعال ٹیم کے ساتھ کام کیا ہے۔ قومی اساتذہ تنظیم بہار کی فکر پر بہار میں عربی و فارسی زبان کے اساتذہ کی بحالی ممکن ہو پائی۔  
محمد رفیع کو تنظیم کا ریاستی صدر بنایا جانا خوش آئند اور تنظیم کے حق میں بے حد مفید ثابت ہوگا۔ جناب تاج الدین نے مزید کہا کہ جناب رفیع صاحب روز اول سے ہی تنظیم کے کارواں کو مضبوط کرنے اور اساتذہ کے مسائل کو لے کر جد وجہد کرتے آئے ہیں۔ اب جبکہ وہ صدر منتخب ہوئے ہیں امید ہے کہ وہ پوری ٹیم کو ساتھ لے کر مضبوطی کے ساتھ اردو اور اساتذہ کے مسائل کو حل کریں گے اور تنظیم کو وسعت عطا کریں گے۔
پروگرام میں ریاستی مجلس عاملہ کے رکن محمد رضوان، محمد حماد، ضلع سیکریٹری محمد آفتاب عالم، اورائی سے محمد منان، بوچہاں صدر محمد زاہد انور، سیکریٹری ذاکر حسین، کٹرہ سے ضلع مجلس عاملہ کے رکن محمد اعظم، منظر اسماعیل، نفیص احمد، کانٹی بلاک انچارج و رکن ضلع مجلس عاملہ جمشید حسین، بندرہ بلاک سے محمد علیم الدین، مزمل حیات، سیتامڑھی سے محمد پرویز، حاجی پور سے آئے بزرگ اردو کے خادم عظیم الدین انصاری، گوپال گنج سے صبر عالم، محمد عارف، عبد الوارث پرویز، حافظ رضوان اللہ اور قاری ذکی انور عرفانی وغیرہ نے شرکت کی اور سرپرست عبد الحسیب کے اظہار تشکر کے ساتھ ہی آج کے انتخابی اجلاس کا اختتام ہوا۔

Comments

Popular posts from this blog

The Robotics and AI Innovation Lab was inaugurated at Carmel Girls' Inter College.

नशा मुक्त भारत अभियान के तहत एक परिचर्चा का आयोजन किया गया।

जो सिफत बाप में होती है कमोबेश वही सिफत औलाद में पाई जाती है - मुफ्ती अकरम