ایس ایم اشرف فرید، پروفیسر توقیر عالم،اشرف النبی قیصر، ریحان غنی، انوار الہدیٰ وغیرہ ہم کے ہاتھوں کتاب " خاموش انقلاب" کی رسم اجرا

 (محمد آصف عطا، اعجاز عادل، دلشیر)
حاجی پور‌/ چہرہ کلاں
 دور حاضر ہم جس حالات سے گزر رہے ہیں۔ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم آپسی اتحاد و اتفاق قائم کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں اور مسلکی اختلافات و دیگر طرح کی آپسی بغض و کینہ، حسد اور جلن سے پاک رہ کر نیک اور صالح معاشرہ کی تشکیل کی ضرورت ہے۔ مندرجہ بالا باتیں وِیشالی ضلع کے چہرہ کلاں واقع مشہور مدرسہ احمدیہ ابا بکر پور میں منعقدہ " خاموش انقلاب" کتاب کی رسم اجرا کے موقع پر اردو ایکشن کمیٹی بہار کے صدر اور کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ قومی تنظیم کے مدیر اعلیٰ جناب ایس ایم اشرف فرید صاحب نے کہی۔ انہوں نے آگے کہا کہ دنیا کے وجود میں آنے سے لیکر موجودہ وقت تک حالات بنتے اور بگڑتے رہے ہیں۔ ہمیں ہر حال میں صبر و تحمل کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ناامیدی کفر ہے۔ جناب ایس ایم اشرف فرید اسلامی تاریخ اور ہندوستان کی جنگ آزادی میں علماء کرام کی بیش بہا قربانیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ آپسی اختلافات کو درکنار کرتے ہوئے ہمیں ترقی کی راہ میں اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مولانا عبدالقیوم شمسی کی حیات و خدمات پر مشتمل مولانا اعجاز کریم قاسمی مدرس مدرسہ احمدیہ ابا بکر پور وِیشالی کی تصنیف کردہ کتاب " خاموش انقلاب" بہت ہی معلوماتی اور کارآمد ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ ابا بکر پور، چک اولیاء، چپیٹھ و دیگر علاقے ہمارے لئے کافی احترام کے لائق ہیں۔ چونکہ اس علاقہ کے چپیٹھ میں میرا نانیہال ہے۔ مدرسہ ہٰذا مجھے پہلی بار اس تقریب کے تعلق سے آنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مدرسہ ہٰذا کے پرنسپل جناب مولانا شمیم احمد شمسی، مولانا قمر عالم ندوی، مولانا اعجاز کریم قاسمی و دیگر مدرسین و منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ نہایت ہی کامیاب اور سازگار ماحول جس میں اردو ایکشن کمیٹی بہار کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اشرف النبی قیصر، نائب صدر ڈاکٹر ریحان غنی،سکریٹری ڈاکٹر انوار الہدیٰ، پروفیسر توقیر عالم سابق وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی پٹنہ، آل انڈیا ملی کونسل کے مولانا نافع عارفی، اردو ایکشن کمیٹی وِیشالی کے صدر محمد عظیم الدین، جنرل سیکرٹری پروفیسر توقیر سیفی، سکریٹری محمد شاہ نواز عطا، اعجاز عادل، خازن عبدالقادر، سابق سکریٹری کلیم اشرف، ضلع اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن وِیشالی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ذاکر حسین، صحافی محمد دلشیر کے علاوہ سرکردہ شخصیتوں کی شرکت کو پروگرام کی کامیابی قرار دیا۔ پروفیسر توقیر عالم نے اپنی شرکت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اپنے طالب علمی کے زمانے میں اس مدرسے سے فیضیاب ہونے کا شرف حاصل رہا ہے۔ یہ علاقہ میرے بچپن کا دیکھا سنا علاقہ رہا ہے۔ اس علاقے سے میری خاص انسیت ہے۔ انہوں نے مولانا اعجاز کریم قاسمی،قمر عالم ندوی اور دیگر معلمین کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس بہت ہی مختصر مطالعہ کیا ہوں۔ یہ نہایت ہی کارآمد اور تاریخی ثابت ہوگا چونکہ مولانا عبدالقیوم شمسی کی حیات و خدمات سے متعلق کتاب ہے۔ انہوں نے مولانا عبدالقیوم شمسی اور انکے اولادوں اور منتظمین کو مبارکباد پیش کیا۔ اُردو ایکشن کمیٹی بہار کے جنرل سیکریٹری جناب ڈاکٹر اشرف النبی قیصر نے مولانا عبدالقیوم شمسی کا ابتدائی زندگی کافی ‌کش مکش کا رہا ہے۔ انہوں نے کافی محنت، ہمت اور جرات کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے تعلیمی سفر میں آگے بڑھتے رہے اور اپنے علاقہ اما موری میں مدرسہ کا قیام کر ایک بہت بڑا تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے۔ جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اپنی اولادوں اور شاگردوں کو نیک اور صالح بنا کر ایک تاریخ رقم کیا ہے۔ ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے بہت کم ہے۔ اس موقع سے اردو ایکشن کمیٹی بہار کے نائب صدر ڈاکٹر ریحان غنی نے کہا کہ موجودہ میں کتابوں کے اجراء کا سلسلہ زوروں پر ہے مگر افسوس کہ قاری گھٹتے جارہے ہیں۔ نئی نسل میں اردو کے تئیں بے رغبتی پر اظہار افسوس کیا۔ اردو کے قاری اور اردو کے طالب علم برقرار رہیں اور نئی نسل میں اردو کے تئیں دلچسپی پیدا ہو اس ضمن میں تحریک چلانے پر زور ڈالا اور کہا کہ مدارس و مکاتب سے ہی نئی نسل پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے مولانا عبدالقیوم شمسی کی خدمات پر یہ دوسری کتاب ہے۔ نہایت ہی خوبصورت اور قابلِ مطالعہ ہے۔ اس موقع سے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ اردو ایکشن کمیٹی بہار کے سکریٹری جناب ڈاکٹر انوار الہدیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا اعجاز کریم قاسمی، مولانا قمر عالم ندوی، مولانا صدر عالم ندوی، مولانا شمیم احمد شمسی اور دیگر معلمین اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ مدرسہ احمدیہ ابا بکر پور کی شاندار عمارت اور اس وسیع کیمپس و دیگر رکھ رکھاؤ اور اس نظم بہت ہی بہتر ہے۔ یقینی طور پر یہاں کا تعلیم و تربیت بھی کافی بچھا ہوگا۔ اس کے لیے انہوں نے پرنسپل ہذا اور جملہ مدرسین کو مبارکباد پیش کیا۔ پروگرام میں شریک تمام مہمان گرامی و شرکا حضرات کو بھی مبارکباد پیش کیا۔ مذکورہ پروگرام کا آغاز مدرسہ احمدیہ ابا بکر پور کے قاری اخلاق کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جبکہ نعتیہ کلام قاری فرحان اور حافظ اعجاز کریم نے پیش کر داد و تحسین حاصل کی۔ پروگرام صدارت مدرسہ ہٰذا کے سابق پرنسپل حضرت مولانا مظاہر عالم فرمائ اور اپنے صدارتی کلمات میں تمام مہمانوں و دیگر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ " خاموش انقلاب" کے مصنف مولانا اعجاز کریم قاسمی کی محنت و کاوشوں کو خوب خوب سراہا اور مولانا عبدالقیوم شمسی کی بے لوث خدمات، تعلیمی تحریک، خصوصاً خواتین میں تعلیم اور معاشرے کی اصلاح جیسی خدمات کا ذکر کیا۔ اس موقع سے پر مغز خطاب فرمایا اور ایس ایم اشرف فرید صاحب سے اپنا دیرینہ رشتے کا ذکر کرتے ایک دلکش منظر پیش کیا۔ پروگرام سے آل انڈیا ملی کونسل ریاست بہار کے جنرل سیکرٹری جناب مفتی نافع عارفی نے بھی پر مغز خطاب فرمایا۔اس موقع سے مولانا نظر الہدیٰ قاسمی نے " خاموش انقلاب" کتاب پر ایک شاندار تبصرہ پیش کر حاضرین سے داد و تحسین حاصل کی۔ اس موقع پر تمام تشریف لائے مہمانان کرام کو پھولوں کا مالا پہنا کر اور شال پیش کر والہانہ استقبال کیا گیا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض اردو ایکشن کمیٹی وِیشالی کے سکریٹری اعجاز عادل، سابق سکریٹری کلیم اشرف اور مولانا قمر عالم ندوی نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ اسی پروگرام کے درمیان ضلع اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن وِیشالی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ذاکر حسین کی جانب سے خوبصورت تیار کردہ بینر کا رسم اجرا بھی عمل میں آیا۔ اس بینر کے ذریعے تعلیم کے تعلق سے خوبصورت نعرے جو پڑھے گا وہ بڑھے گا ، جتنا پڑھے گا اتنا پڑھے گا، جب پڑھے گا تب بڑھے گا پیش کر محفل میں ایک نیا منظر پیش کیا۔ اس موقع پر اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن وِیشالی کے صدر جناب محمد عظیم الدین انصاری، جوائنٹ سیکرٹری عبدالقادر، سکریٹری محمد شاہ نواز عطا، محمد دلشیر کے علاوہ کئی اساتذہ کرام شریک محفل تھے۔ اس پروگرام سے قبل سفر کی درمیان مہوا بازار واقع اردو ایکشن کمیٹی وِیشالی کے جنرل سیکرٹری پروفیسر توقیر سیفی کی قیام گاہ پر اردو ایکشن کمیٹی بہار کے صدر جناب ایس ایم اشرف فرید اور انکے ساتھ سبھی عہدیداران کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ حضرت مولانا مظاہر عالم کی دعائیہ کلمات اور مولانا اعجاز کریم قاسمی کے اظہار تشکر پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔ اس پروگرام میں اردو ایکشن کمیٹی وِیشالی کے صدر محمد عظیم الدین انصاری، جنرل سکریٹری پروفیسر توقیر سیفی، سکریٹری محمد شاہ نواز عطا، خازن عبدالقادر بہاری، روزنامہ قومی تنظیم کے مہوا بلاک علاقہ کے نمائندہ محمد دلشیر،صحافی شرافت خان،صحافی زاہد وارثی،مفتی جمال قاسمی۔ مولانا عادل فریدی، مولانا معین الرشید ندوی،حافظ ظفر اللہ ابا بکر پور،ماسٹر شکیل احمد، ماسٹر شمشاد احمد،محمد کامران، مفتی توقیر عالم قاسمی، مولانا آصف جمیل قاسمی، مولانا فردوس مدنی، مفتی ابراہیم ندوی، قاری فرحان عرفانی، مولانا وہاج الہدیٰ قاسمی، مولانا رافع قاسمی، مولانا محمد حدیث، قاضی محمد شاہ نواز صاحب دارالقضا وِیشالی،سابق مکھیا محمد کمال الدین عرف لڈن بابو،ماسٹر امیر الحق، راجد لیڈر سرفراز اعجاز، قاری محمد اخلاق عرفانی، حافظ محمد اسجد، الحاج شمس الحق، نیئر حبیب، صفوان القمر شمسی وغیرہ ہم سمیت دیگر کئی سرکردہ شخصیات و محبان اردو نے شرکت کی۔ 
ساتھ میں تصویر ۔

Comments

Popular posts from this blog

The Robotics and AI Innovation Lab was inaugurated at Carmel Girls' Inter College.

नशा मुक्त भारत अभियान के तहत एक परिचर्चा का आयोजन किया गया।

जो सिफत बाप में होती है कमोबेश वही सिफत औलाद में पाई जाती है - मुफ्ती अकरम