علم کے ساتھ عمل کا پیغام دیتی ہے مجدد الف ثانی کی حیات : حافظ رحمت
عرس پاک : حضرت مجدد الف ثانی کو شدت سے کیا یاد
مسلمانوں کے عظیم محسن شیخ مجدد الف ثانی سرہندی کا عرس پاک بدھ کو مکتب اسلامیات ترکمان پور و سبزپوش ہاؤس مسجد جعفرا بازار میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، محافل، قل شریف اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا۔
سبزپوش ہاؤس مسجد کے امام حافظ رحمت علی نظامی نے بتایا کہ حضرت مجدد الف ثانی کا نام احمد فاروقی ہے آپ سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ اور مجدد اسلام ہیں، آپ کی ولادت ١٤ شوال ٩٧١ھ /١٥٦٣ء جلال الدین اکبر بادشاہ کے دور میں سرہند میں ہوئی، آپ کا سلسلۂ نسب ٣١/ واسطوں سے مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ سے جا ملتا ہے، عہد اکبری اور جہانگیری میں مسندِ اقتدار سے لے کر عوام کے انتہائی پسماندہ طبقے تک اور سری لنکا کے ساحل سے لے کر آسام تک، بحیرہ عرب کے جنوبی مسلم علاقوں سے لے کر چین کی سرحدوں تک، حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ نے جو رشد و ہدایت کی شمع فروزاں کی اس سے متذکرہ علاقوں کے علاوہ پورا عالمِ اسلام منور ہوا
انہوں نے کہا کہ آپ کی بے باکی، بے خوفی اور بے غرضی کو دیکھ کر قرونِ اولیٰ و ثانیہ کے مسلمان صحابہ و تابعین کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ طویل عرصہ زنداں میں اسیر (جیل میں نظر بند) رہنے کے باوجود آپ کے پائے ثبات متزلزل نہیں ہوئے، حضرت مجدد الف ثانی کی زندگی علم کے ساتھ عمل کا پیغام دیتی ہے۔
قاری محمد انس نقشبندی نے کہا کہ آپ کی زندگی بدعات و رخصت کی بجائے مکمل سنت و عزیمت سے عبارت ہے، آپ نے اپنے زمانے کی سپر پاورز کے روبر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مذہب اسلام کا پیغام بلند کیا، اعلاء کلمۃ الحق کی اس تحریک میں آپ کو طرح طرح کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں جن سے بے نیاز ہوکر آپ نے دین کی خدمت انجام دیں، کوئی مشکل آپ کے راہ کی دیوار اور پاؤں کی زنجیر نہ بن سکی۔
محفل میں محد زید، روشان، علی شان، نہال احمد محمدی نقشبندی، قاضی مظفر حسنین رومی برکاتی، محمد مدثر، محمد شاد نقشبندی، عبد الصمد نقشبندی، شفا، خدیجہ، ثنا فاطمہ، مبشرہ، معظمہ، ام ایمن، ادیبہ، ثنا خان، شالیبہ خان وغیرہ موجود رہیں۔
Comments
Post a Comment