دیسری کے عوامی مسائل کو لے کر کانگریس کا احتجاج
محمد آصف عطا
حاجی پور/ دیسری
ایس۔پی۔ایس۔ کالج کے کھیل کے میدان میں موجود گڑھے کی بھرائی اور مناسب روشنی کا انتظام، دیسری میں ریلوے اوور برج کی تعمیر، اہم ایکسپریس ٹرینوں کے ٹھہراؤ، سردار ولبھ بھائی پٹیل ریلوے اسٹیڈیم کی خوبصورتی اور ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کی سہولیات کی ترقی سمیت مختلف مطالبات کو لے کر کانگریس نے پیر کے روز دیسری بلاک دفتر پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ایس۔پی۔ایس۔ کالج سے شروع ہونے والے اس احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں طلبہ، نوجوان، کھلاڑی، کانگریس کارکنان اور مقامی شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرے کے بعد منعقدہ جلسے کی صدارت ابھیشیک کمار سنگھ نے کی، جبکہ نظامت گوتم کمار یادو نے کی۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ویشالی ضلع کانگریس کمیٹی کے ضلع صدر رنجیت پنڈت نے کہا کہ دیسری ریلوے پھاٹک پر روزانہ لگنے والے ٹریفک جام اور ریلوے فلائی اوور کی کئی سال پرانی مانگ کے باوجود اب تک کوئی ٹھوس پہل نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے مقامی رکنِ پارلیمنٹ چراغ پاسوان سے سوال کیا کہ انہوں نے اس مسئلے کو پارلیمنٹ اور وزارتِ ریلوے کے سامنے کتنی بار اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیسری کے عوام اب صرف یقین دہانی نہیں بلکہ ٹھوس کارروائی چاہتے ہیں۔ عوامی مسائل پر حکومت اور عوامی نمائندوں کی خاموشی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے ابھیشیک کمار سنگھ نے کہا کہ ایس۔پی۔ایس۔ کالج کا کھیل کا میدان ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں کے لیے کھیل کود کے ساتھ ساتھ فوج اور پولیس میں بھرتی کی تیاری کا ایک اہم مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ میدان میں کئی سال سے موجود بڑا گڑھا حادثے کا خطرہ بنا ہوا ہے، جبکہ مناسب روشنی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اقلیتی سیل کے ضلع صدر محمد رستم اور انیش کمار نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں سے مسلسل درخواستیں دینے اور پنچایتی راج محکمہ کے ڈائریکٹر اور وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کی ہدایات کے باوجود مسئلے کا حل نہیں کیا گیا۔ آر ٹی آئی کے ذریعے ضلع انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ضلع پریشد رکن کی سفارش نہ ہونے کی وجہ سے اس کام کو سالانہ ایکشن پلان میں شامل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صرف سفارش نہ ہونے کی بنیاد پر عوامی مفاد کے کام کو برسوں تک زیرِ التوا رکھنا حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر مونیکا کماری نے چھ رکنی وفد کے ساتھ بات چیت کی اور یقین دہانی کرائی کہ ان کے دائرۂ اختیار میں آنے والے کاموں کو مکمل کرانے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ پالیسی سے متعلق مطالبات کو حکومت تک پہنچایا جائے گا۔
وفد میں ضلع صدر رنجیت پنڈت، ابھیشیک کمار سنگھ، محمد رستم، انیش کمار، نوینیت کمار اور سنجیو کمار یادو شامل تھے۔ کانگریس نے انتباہ دیا کہ اگر مطالبات پر جلد کارروائی نہیں کی گئی تو احتجاج کو مزید وسیع کرتے ہوئے مرحلہ وار تحریک چلائی جائے گی۔ اس موقع پر انتہائی پسماندہ سیل کے ضلع صدر اتم کمار ٹھاکر، سُبودھ پاسوان، پردیپ کمار سنگھ، راہل کمار، روپک، دیپک پاسوان، دنیش رائے عرف ٹائیگر، منجے کمار یادو، ارجن مانجھی، شنکر یادو، وشال، آدتیہ کمار پنڈت، اشوک کمار ٹنکو، پرشانت کمار، منا ساہ، بٹو، لڈو، گنیش پنڈت، ڈاکٹر چندرموہن پنڈت، محمد صدام، روبن کمار، وکرم کمار، آلوک، راجا، انکت، ستیا، روشن، روہن، نوین، راجیش، آلوک سمیت درجنوں طلبہ، نوجوان، کھلاڑی اور کانگریس کارکنان موجود تھے۔
Comments
Post a Comment