TRE- 4 امیدواروں کے ساتھ نا انصافی بند کی جائے : آئین احمد
راشٹریہ جنتا دل کے رہنما و معروف ماہرِ تعلیم آئین احمد نے بہار پبلک سروس کمیشن کی جانب سے TRE-4 اساتذہ تقرری کے لیے جاری کیے گئے مضمون وار روسٹر میں فارسی، عربی، میتھلی، پالی، بھوجپوری اور دیگر روایتی زبانوں کے لیے انتہائی کم آسامیوں کی فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف چند مضامین میں تقرریوں کا نہیں بلکہ بہار کی تہذیبی شناخت، لسانی تنوع، قومی تعلیمی پالیسی (NEP-2020) کی روح اور ہزاروں اہل STET-2025 امیدواروں کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے۔ آئین احمد نے کہا کہ بہار صدیوں سے علم، تحقیق اور تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ نالندہ، وکرم شلا اور بدھ مت کی عظیم علمی روایت رکھنے والی اس سرزمین پر اگر آج روایتی زبانوں کے اساتذہ کی تقرریوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو یہ ریاست کی تاریخی اور ثقافتی ذمہ داریوں سے انحراف کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فارسی، عربی، میتھلی، پالی اور بھوجپوری محض زبانیں نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، علمی روایت، تاریخ اور ثقافتی ورثے کی اہم علامتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کے تحفظ اور فروغ پر خصوصی زور دیتی ہے۔ ایسے میں اگر ان مضامین کے لیے مناسب تعداد میں اساتذہ کی تقرری نہیں کی جاتی تو رفتہ رفتہ اسکولوں میں ان زبانوں کی تعلیم ختم ہو جائے گی، جو نہ صرف تعلیمی پالیسی کی روح بلکہ ملک کی ثقافتی وراثت کے بھی خلاف ہوگا۔ آئین احمد نے حکومت سے سوال کیا کہ جب سال 2023 میں فارسی اور عربی سمیت مختلف مضامین کے لیے سیکڑوں منظور شدہ اسامیاں موجود تھیں تو TRE-4 میں ان مضامین کے لیے مناسب تعداد میں خالی اسامیاں کیوں نہیں رکھی گئیں؟ اگر حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ ان مضامین میں “سرپلس اساتذہ” موجود ہیں تو ضلع وار اور اسکول وار مکمل اعداد و شمار عوام کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔ انہوں نے حالیہ ٹرانسفر پوسٹنگ کے عمل میں فارسی اور عربی کے اساتذہ کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر دیگر مضامین کے اساتذہ کو اسکول چوائس (School Choice) کا اختیار دیا گیا ہے تو یہی حق فارسی اور عربی کے اساتذہ کو بھی ملنا چاہیے۔ آئین ہند تمام شہریوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے، لہٰذا کسی بھی مضمون کے ساتھ امتیازی رویہ قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔آئین احمد نے کہا کہ STET-2025 کے ہزاروں کامیاب امیدوار گزشتہ دو برس سے تقرری کے منتظر ہیں۔ اگر خالی اسامیوں کے باوجود ان اہل امیدواروں کو ملازمت سے محروم رکھا جاتا ہے تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی بلکہ بہار کے تعلیمی نظام کو بھی کمزور کرے گی۔
انہوں نے بہار حکومت سے مطالبہ کیا کہ
* TRE-4 مضمون وار روسٹر کا فوری طور پر ازس نو جائزہ لیا جائے۔
* فارسی، عربی، میتھلی، پالی، بھوجپوری اور دیگر روایتی زبانوں کے لیے مناسب تعداد میں اسامیاں مختص کی جائیں۔
* سال 2023 میں منظور شدہ آسامیوں اور موجودہ خالی اسامیوں پر محکمانہ وائٹ پیپر جاری کیا جائے۔
* “سرپلس اساتذہ” کے دعووں کی آزادانہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
* ٹرانسفر پوسٹنگ کے عمل میں تمام مضامین کے اساتذہ کو مساوی مواقع اور اسکول کے انتخاب کا حق دیا جائے۔
* STET-2025 کے کامیاب امیدواروں کی جلد، شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر تقرری کو یقینی بنایا جائے۔
* بہار حکومت روایتی زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک جامع اور طویل مدتی پالیسی کا اعلان کرے۔
آخر میں آئین احمد نے کہا کہ تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک معاشرے کی تہذیب، تاریخ اور اجتماعی شعور کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر آج روایتی زبانوں کو نظر انداز کیا گیا تو آنے والی نسلیں اپنی علمی، تاریخی اور ثقافتی شناخت سے محروم ہو جائیں گی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بہار اور محکمۂ تعلیم سے اپیل کی کہ اس مسئلے کو محض بھرتی کے معاملے کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ ریاست کے تعلیمی، ثقافتی اور آئینی فریضے کے طور پر اس کا منصفانہ حل نکالا جائے۔ “زبانوں کا تحفظ صرف ماضی کی حفاظت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو ان کی تہذیبی شناخت، علمی سرمایہ اور ثقافتی ورثے سے جوڑے رکھنے کا عہد ہے۔”
ساتھ میں تصویر ۔
Comments
Post a Comment