چمگادڑ کی رات‘ نے ناظرین کو ہنسایا بھی اور نظامِ حکومت پر غور کرنے پر مجبور بھی کیا

محمد آصف عطا
حاجی پور‌/ پٹنہ
 وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند کے تعاون سے احساس کلا کرتی کی جانب سے ڈاکٹر پرمود کمار سنگھ کی تحریر کردہ اور کمار مانَو کی ہدایت کاری میں تیار کردہ مزاحیہ و طنزیہ ڈراما ’چمگادڑ کی رات‘ کی مؤثر پیش کش پریم چند رنگ شالا آڈیٹوریم میں گزشتہ روز ہوئی ۔ اس پیش کش نے مزاح اور طنز کے ذریعے اقتدار کی خوشامد، سیاسی مفادات اور سرکاری نظام کی خامیوں پر بھرپور طنز کیا۔ جہاں ناظرین کئی مناظر پر خوب ہنسے، وہیں ڈرامے نے انہیں نظامِ حکومت اور سماجی ذہنیت پر سنجیدگی سے غور کرنے پر بھی مجبور کیا۔ پروگرام کا افتتاح بھارتی جیون بیمہ نگم، پٹنہ شاخ-3 کے چیف مینیجر جناب ارون کمار، مہمانِ خصوصی پروفیسر کمل پرساد بدھ، ڈائریکٹر، بدھا اسٹڈیز اینڈ ایڈوانسڈ ریسرچ سینٹر، پاٹلی پترا یونیورسٹی، پٹنہ، اور خصوصی مہمان فن و ثقافت کے علم بردار و سینئر صحافی وشو موہن چودھری سنت، پٹنہ ہائی کورٹ کے وکیل پرمود کمار سنگھ اور جناب سید عطا کریم، سینئر تھیٹر فن کار و محکمۂ تعلیم، حکومتِ بہار کے سبک دوش انڈر سکریٹری، نے مشترکہ طور پر شمع روشن کر کے کیا۔  ڈرامے کی کہانی ڈرامے کی کہانی ایک ایسے گاؤں سے شروع ہوتی ہے، جہاں نابینائی کے مسئلے سے پریشان دیہاتی اپنی آواز اقتدار کے دربار تک پہنچاتے ہیں۔ وہاں ان کا سامنا راجا سلسلہ سے ہوتا ہے، جسے عوامی مسائل سے زیادہ اپنی تعریف اور خوشامد پسند ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے قائم کیا گیا کمیشن اجلاسوں اور کاغذی کارروائیوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ صورتحال اس وقت انتہائی مضحکہ خیز ہو جاتی ہے، جب نابینا افراد کی تعداد 60 فیصد سے بڑھ کر 80 فیصد ہونے کی رپورٹ سامنے آتی ہے اور راجا باقی 20 فیصد لوگوں کی آنکھیں بھی بند کر دینے کا حکم جاری کر دیتا ہے۔ اسی دوران جب خود راجا بھی دیکھنے سے قاصر ہو جاتا ہے تو نظامِ حکومت کا مضحکہ خیز چہرہ سامنے آتا ہے، اور اس کی نابینائی کی جانچ کے لیے ایک نیا کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا جاتا ہے۔فن کاروں کی مؤثر اداکاری ڈرامے میں راجا سلسلہ کا کردار ادا کرنے والے ہدایت کار کمار مانَو نے اپنی شاندار اداکاری سے ناظرین پر گہرا اثر چھوڑا۔ شنکر کے کردار میں وجے کمار چودھری نے مؤثر مکالمہ نگاری کے ذریعے ناظرین کو متاثر کیا۔ سدانند کے کردار میں بھونیشور کمار اور مداری کے کردار میں سربند کمار خصوصی طور پر توجہ کا مرکز رہے۔ رام بھروسے کے کردار میں بلرام کمار، واٹیکا کے کردار میں ارچنا کماری اور پشپا کے کردار میں وجیا لکشمی نے بھی اپنے کرداروں کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ دیگر کرداروں میں راج کشور پاسوان، میانک کمار، سنتوش کمار، روی داس، نرنجن کمار ’چھچھے‘، ابھیمنیو کمار، سنت جی، منتوش کمار، رام بابو رام، آریان کمار گپتا، کرن کمار اور سورج کمار نے بھی اپنا تعاون پیش کیا۔
 پسِ پردہ ٹیم کا اہم تعاون ڈرامے کی پیش کش کو مؤثر اور جاندار بنانے میں اسٹیج کے پیچھے کام کرنے والی ٹیم کا بھی اہم کردار رہا۔ اسٹیج کی نظامت مانسی کماری، روشنی کی ترتیب راجیو رائے، اسٹیج کی منصوبہ بندی سنتوش کمار اور سنیل کمار، میک اَپ مایا کماری، لباس کی ترتیب انیتا کماری اور پسِ منظر کی آواز کی ذمہ داری مانسی کماری نے سنبھالی۔  ڈرامے کا بنیادی پیغام
ڈرامے کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ نابینائی صرف آنکھوں کی نہیں ہوتی، بلکہ سچ سامنے ہوتے ہوئے بھی اسے دیکھنے اور قبول کرنے کی ہمت نہ ہونا بھی ایک قسم کی سماجی اور ذہنی نابینائی ہے۔ پیش کش کے اختتام پر ناظرین نے فن کاروں کی اداکاری، مکالموں، ہدایت کاری اور طنزیہ انداز کو سراہا۔ ’چمگادڑ کی رات‘ نے تفریح کے ساتھ ناظرین کے سامنے ایک سنجیدہ سوال بھی چھوڑ دیا— نابینا کون ہے؟ وہ جس کی آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں، یا وہ جس کی آنکھیں کھلی ہیں، لیکن سچ دیکھنے کی ہمت نہیں ؟
ساتھ میں تصویر ۔

Comments

Popular posts from this blog

The Robotics and AI Innovation Lab was inaugurated at Carmel Girls' Inter College.

नशा मुक्त भारत अभियान के तहत एक परिचर्चा का आयोजन किया गया।

जो सिफत बाप में होती है कमोबेश वही सिफत औलाद में पाई जाती है - मुफ्ती अकरम