مولانا امین احمد خاں کی رحلت پر حاجی پور میں تعزیتی نشست کا اہتمام
حاجی پور
اصلاحِ ملت کمیٹی ویشالی کے سرپرست حضرت مولانا امین احمد خاں نوری چترویدی کے انتقالِ پُرملال پر کمیٹی کے زیرِ اہتمام مرحوم کی یاد میں ایک تعزیتی نشست کا اہتمام مرکزی جامع مسجد نون گولا شہید شبیر عالم مارگ میں منعقد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت اصلاحِ ملت کمیٹی ویشالی کے صدر ماسٹر محمد عظیم الدین انصاری نے فرمائی۔ اس موقع پر انہوں نے مولانا موصوف کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محترم اس کمیٹی کے ۱۹۹۶ء سے تاحیات سرپرستِ اعلیٰ رہے۔ ان کی سرپرستی میں بے شمار کارنامے انجام دیے گئے، مثلاً نوادہ کلاں میں مکاتب کا قیام، گنج پٹھان ٹولی میں مدرسہ اور مسجد کی تعمیر کے علاوہ مختلف مقامات پر تعلیمی بیداری تحریک کے تحت پروگرام کا انعقاد جیسے کاموں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جناب انصاری نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پروگرام کا آغاز حافظ محمد مرتضیٰ کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ پروگرام کی نظامت ماسٹر عبدالقادر بہاری نے انجام دی۔ اس موقع سے ڈاکٹر عظیم انصاری نے ان کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تعزیتی نشست میں زَمِّ غفیر کی شرکت اس پروگرام کی کامیابی کی علامت ہے۔
پروفیسر واعظلحق نے کہا کہ حاجی پور باغ تاج خاں عرف پوکھرا کی مسجد میں جب تک امامت کے فرائض انجام دیے، لوگوں سے اچھے رابطے قائم ہوئے۔ بعد کے دنوں میں بھی آمد پر لوگوں سے ملتے اور خیریت دریافت کرتے، یہ ان کے اعلیٰ اخلاق کی علامت ہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا کہ جس طرح کے مولانا موصوف کارنامے انجام دیے ہیں، ہم لوگوں پر بڑا احسان کیے اور ہم لوگ ان کے قرض دار ہیں۔ قاری افروز احمد نے کہا کہ ۱۹۸۰ء سے ۲۰۰۸ء تک پوکھرا مسجد میں خطیب و امام کے فرائض انجام دیتے رہے۔ مسجد کی تعمیر میں ان کی بہت بڑی قربانی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ولانا شوکت علی قاسمی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایک عالم کی رحلت ایک عالم کی رحلت ہے۔ ان سے میری ایک دو ملاقاتیں ہیں، وہ نہایت ہی ملنسار اور خوش گفتار تھے۔
مولانا اظہار احمد قاسمی نے کہا کہ مرحوم سے پہلی ملاقات میں ہی ان کی حسنِ خوبی اور گفتگو کا نرالا انداز میرے ذہن میں آج بھی پختہ ہے۔ وہ خطابت کے ملکہ تھے۔ پروفیسر حسن رضا نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا موصوف بڑے خوبی کے عالم تھے۔ اپنی تقریر کے درمیان لوگوں کا دل جیت لیتے تھے۔ علم کی خانہ بندی سے انہیں گریز تھا۔ مختصر وقت میں اس بڑی شخصیت پر روشنی ڈالنا محال ہے۔ پروفیسر اظہارالحق نے کہا کہ ان کی تقریر کو سننے کے لیے دور دراز سے لوگ جمعہ کے موقع سے پوکھرا مسجد آیا کرتے تھے، جس میں میں بھی شامل ہوں۔
اس تعزیتی نشست کے موقع پر ۷ تا ۸ بجے صبح قرآن خوانی کا نظم کیا گیا۔ اس نشست کی دعا مرکزی جامع مسجد نونگولا کے خطیب و امام حضرت مولانا نے کی۔ دوسری نشست کے بعد کی دعا حضرت مولانا اظہارالحق قاسمی نے کی۔ بعد ازاں اصلاحِ ملت کمیٹی ویشالی کے جنرل سکریٹری ماسٹر محمد قمرالدین کے اظہارِ تشکر پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ مرکزی مسجد انتظامیہ نے تشریف لائے حاضرین کی تواضع اور پروگرام کو کامیاب بنانے میں پیش پیش رہے۔ اس موقع پر مختلف تنظیموں کے سربراہان و سرکردہ شخصیات کے علاوہ کافی تعداد میں دانشوران شریک ہو کر مولانا مرحوم سے سچی عقیدت کا اظہار کیا۔
ساتھ میں تصویر ۔
Comments
Post a Comment