خطیب البراہین: حیات و خدمات کے نورانی نقوش
برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ، جلیل القدر عالمِ ربانی، محی السنہ، عارف باللہ، "خطیب البراہین" حضرت علامہ الحاج صوفی مفتی محمد نظام الدین قادری برکاتی رضوی محدث بستویؒ کی ذاتِ گرامی علم و عمل اور تقویٰ و طہارت کا ایک روشن مینار تھی۔ آپ کی پوری زندگی سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی اتباع اور شریعت کے فروغ کے لیے وقف تھی۔
آپ کی ولادتِ با سعادت 15 جنوری 1928ء کو آپ کے آبائی گاؤں اگیا (ضلع سنت کبیر نگر، یوپی) میں ہوئی۔ بچپن ہی سے آپ شریف الطبع اور سادہ مزاج تھے۔ دورِ طالب علمی ہی میں آپ حصولِ علم کی لگن کے ساتھ ذوقِ عبادت، تقویٰ اور پرہیزگاری جیسے بلند اخلاق سے آراستہ تھے۔
جن دنوں آپ دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور میں زیرِ تعلیم تھے، دارالاقامہ کے نگران حضرت مولانا علی احمد صاحب مبارک پوریؒ آپ کے متعلق فرمایا کرتے تھے:"تعلیمی دور میں طلبہ کو صبح کے وقت نماز کے لیے بیدار کرتا تھا، مگر جب بھی گیٹ کھولتا تو مولانا نظام الدین بستوی کو وضو سے فارغ پاتا یا وضو کرتے پاتا۔"
آپ کے تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ ایک بار آپ نے حضور حافظِ ملتؒ کی بارگاہ میں عریضہ پیش کیا کہ: "حضور! میرے احباب مجھے 'صوفی صاحب' کہتے ہیں، حالانکہ میں اپنے آپ کو اس کا مصداق نہیں پاتا، آپ انہیں منع فرما دیں۔" اس پر حضور حافظِ ملتؒ نے تبسم فرما کر ارشاد فرمایا: "جی ہاں! ہم بھی آپ کو صوفی صاحب کہتے ہیں، آپ صوفی ہیں اس لیے تو لوگ آپ کو صوفی صاحب کہتے ہیں۔" اور آج یہی نام آپ کی مستقل پہچان بن گیا۔
آپ نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، اس کے بعد مدرسہ تدریس الاسلام بسڈیلہ (سنت کبیر نگر) اور مدرسہ اسلامیہ اندکورٹ (میرٹھ) میں بھی دینِ متین کی تعلیم حاصل کی۔ بالآخر 1952ء میں آپ نے جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے فراغت حاصل کی اور دستارِ فضیلت سے سرفراز کیے گئے۔
حضور خطیب البراہین قدس سرہ نے ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دیں؛ جن میں (1) قصبہ مہنداول، (2) دارالعلوم شاہ عالم احمد آباد (گجرات)، (3) دارالعلوم فضل رحمانیہ پچپڑوا، اور آخر میں (4) دارالعلوم تنویر الاسلام امرڈوبھا شامل ہیں۔ امرڈوبھا میں آپ طویل عرصہ یعنی تقریباً 20 سال تک بغیر کسی تنخواہ کے فی سبیل اللہ صدر المدرسین اور شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہ کر تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ امتِ مسلمہ میں علم کی شمع روشن کرنے کے لیے آپ نے سینکڑوں مدارس کا سنگ بنیاد رکھا۔
آپ کی زندگی پرہیزگاری اور حیا کا پیکر تھی۔ ایک بار مدرسہ بورڈ کی رجسٹرار (صالحہ رضوی) معائنے کے لیے امرڈوبھا مدرسے پہنچیں۔ انتظامیہ نے ان کی خاطر تواضع کی تو انہوں نے پرنسپل سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ غیر محرم عورتوں سے نہیں ملتے۔ وہ تعجب سے بولیں: "کیا اس زمانے میں بھی ایسے لوگ زندہ ہیں؟ تب تو میں ایسے بزرگ کو ضرور دیکھوں گی!"
جب وہ سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی آپ کے کمرے کے پاس پہنچیں اور آپ کی نظر ان پر پڑی، تو آپ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور دیوار و الماری کی طرف منہ چھپا کر کھڑے ہو گئے۔ آپ نے پہلے ہی کلرک کو سختی سے کہہ رکھا تھا کہ وہ آنے والی خاتون کو اندر نہ لائیں، اور فرمایا تھا: "میں یہ مدرسہ چھوڑ سکتا ہوں مگر اس سے نہیں ملوں گا۔" یہ تھا آپ کا تقویٰ اور شرعی حدود کی پاسداری کا عالم!
دارالعلوم شاہ عالم، احمد آباد میں تدریسی خدمات کے دوران آپ کے تلامذہ میں حضرت علامہ مولانا محمد میاں مالیگ، حضرت علامہ مولانا نیاز احمد مالیگ اور حضرت علامہ مولانا نظام الدین صاحبان جیسے جلیل القدر علماء شامل تھے، جو طویل عرصے (تقریباً پچاس سال) سے لندن میں مقیم ہیں۔ ان حضرات نے بارہا کوشش کی کہ آپ لندن تشریف لائیں، مگر آپ نے ان کی دعوت یہ کہہ کر مسترد کردی کہ وہاں جانے کے لیے پاسپورٹ اور ویزا وغیرہ کی خاطر فوٹو کھنچوانا پڑے گا، اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے دوبارہ حجِ بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل نہیں فرمائی۔ اسی طرح پاکستان کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے بھی لوگوں نے بھرپور کوششیں کیں، مگر آپ نے احکامِ شریعت کی سختی سے پابندی کرتے ہوئے ہر ایسی پیشکش سے گریز فرمایا۔ آپ کی پوری زندگی شریعتِ مطہرہ کی حزم و احتیاط اور سنتِ نبویﷺ کی سچی پیروی کا ایک روشن باب تھی۔
دن بھر طلبہ کو علمِ دین سے آراستہ کرنا اور رات کو اصلاحِ امت کے لیے جلسوں اور کانفرنسوں میں خطاب کرنا آپ کا معمول تھا۔ آپ کے خطابات قرآن و حدیث کے محکم حوالوں سے لبریز ہوتے تھے، اسی لیے علماء ومشائخ نے آپ کو "خطیب البراہین" کے لقب سے نوازا۔
معاشرے کی اصلاح کے لیے آپ نے ایک درجن سے زائد قیمتی کتابیں تحریر فرمائیں، جن میں درج ذیل قابلِ ذکر ہیں:(1)برکاتِ روزہ(2)حقوق والدین (3)فضائل مدینہ منورہ (4)فلسفہ قربانی
(5)برکاتِ مسواک(6)داڑھی کی اہمیت(7) فضائل تلاوت
(8)کھانے پینے کا اسلامی طریقہ(9)برکات زکوٰۃ (10)خطبات خطیب البراہین دو جلدیں۔
آپ کی فقید المثال زندگی اور علمی و روحانی کارناموں پر متعدد مصنفین نے کتابیں قلمبند کیں، جو آج بھی تشنگانِ علم کو راہِ عمل دکھاتی ہیں::(1) نظامِ حسن ومبین(ڈاکٹر شجاع الدین فاروقی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ)(2) دو عظیم شخصیتیں(مولانا مبارک حسین مصباحی مصباحی)(3)خطیب البراہین ایک منفرد المثال شخصیت(مولانا محمد ادریس بستوی)(4)آئینہ محدث بستوی(مولانامقبول احمد سالک مصباحی)(5)خطیب البراہین اپنے خطبات کے آئینے میں(مفتی صدرالوری مصباحی)(6)خطیب البراہین آئینہ میں اشعار(ڈاکٹر عزیز اللہ خان عزیزی)(7)محدث بستوی سنتِ رسول کے آئینے میں(مولانا محمد طاہر القادری مصباحی)(8)عالمِ باعمل(حضورحبیب العلماء مدظلہ العالیٰ)(9)ماہ وسن روشن ہوگیے تیری تابانی سے (مولانا تفسیرالقادری قیامی)
(10)ضیائے حبیب خصوصی شمارہ (مولانا ضیاء المصطفیٰ نظامی)(11)حیاتِ خطیب البراہین (12)جہانِ خطیب البراہین وغیرہ۔
یہ آفتابِ علم و معرفت 14 مارچ 2013ء کو اپنے آبائی گاؤں اگیا میں خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ آپ کے جنازے میں ملک و بیرونِ ملک سے لاکھوں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ آپ کا سالانہ عرسِ مبارک ہر سال عربی مہینے کی یکم جمادی الاولیٰ کو انتہائی شان و شوکت اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے، جس میں لاکھوں شیدائی حاضری دے کر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
اس سال عرسِ نظامی درج ذیل ترتیبات کے ساتھ منعقد ہوگا۔ 12 اکتوبر (بروز دوشنبہ) بعد نمازِ فجر: قرآن خوانی سے عرس کا آغاز ہوگا۔ بعد نمازِ ظہر تا شام: مزارِ اقدس پر چادر پوشی اور گل پوشی کا سلسلہ۔ بعد نمازِ عشاء (نظامی کانفرنس): حبیب العلماء حضرت علامہ شاہ صوفی مفتی محمد حبیب الرحمن رضوی کی سرپرستی اور نبیرۂ خطیب البراہین حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ نظامی کی صدارت میں منعقد ہوگی، جس میں ملک کے جلیل القدر علماء ومشائخ اور شعراء شرکت فرمائیں گے۔ 13 اکتوبر (بروز منگل، صبح 8:00 بجے): درگاہِ عالیہ پر "قل شریف" کے پُر وقار انعقاد اور دعائے خیر کے ساتھ مبارک تقریبات کا اختتام ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور خطیب البراہین قدس سرہ کے نقوشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان کے فیوض وبرکات سے مالا مال فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلینﷺ۔
Comments
Post a Comment