بنکر سماج کے ذریعہ تیار کردہ کھادی کپڑوں اور اپنے دولہا دلہن کو سجانے سے لے کر مرنے تک کفن تیار کرتا تھا
مدھوبنی محمد سالم آزاد
ان خیالات کااظہار کرتے ہوئے جناب عقیل انجم سکریٹری بنکر سیوا سنگھ کچہری روڈ، مدھوبنی نے کہا کہ
بہار کے نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن اور
ہر دلعزیز وزیراعلیٰ، بہار، پٹنہ۔ بنکروں کی فلاحی یوجناؤں (منصوبوں) کو عملی شکل دینے کے سلسلے
میں ہمدردی کے ساتھ گزارش کرنی ہے کہ بہار کے بنکروں کی حالت کافی قابلِ رحم ہے جو بنکر سال 2000 سے پہلے دوسروں کو روزگار دیتا تھا آج کی تاریخ میں یہ بنکر سماج اپنا تن ڈھکنے کو بے بس اور مجبور ہے انہی بنکروں کے ذریعہ تیار کردہ کپڑا اپنے دولہا دلہن کو سجانے سے لے کر مرنے تک کفن تیار کرتا تھا آج دو وقت کی روزی روٹی کے لیے ٹھیلہ چلانا بھٹے میں کام کرنا مزدوری کا کام کرنا اس کا مقدر بن گیا ہے۔
اتنے پر ہی بس نہیں ہے ملک کی دیگر ریاستوں میں اپنی محنت اور خون بیچ کر روزی روٹی کمانے کو بے بس ہے اور پھر اس ریاست میں مقامی لوگوں کے ذریعہ بہاری ہونے کی وجہ سے ذلیل بھی کیا جاتا ہے
آج کی تاریخ میں آپ دیکھیں گے کہ بہار کے کچھ ضلعوں میں جیسے مدھوبنی، دربھنگہ، سیوان، بھاگلپور (سگوری) بہارشریف سہرسا ،وغیرہ بنکروں کے چھوٹے چھوٹے بچے کچرا گندی نالیوں میں چنتے ہوئے نظر آئیں گے جس بچے کے ہاتھوں میں قلم کتاب ہونی چاہیے وہ غریبی کی وجہ سے کچرا چننے پر مجبور ہے
بنکروں کی جو بھی تنظیمیں تھیں وہ سب بند پڑی ہیں علاقائی ہتھکرگھا سنگھ لمیٹڈ، بہار اسٹیٹ ہینڈلوم کارپوریشن لمیٹڈ، کھادی گرام ادیوگ سنگھ وغیرہ۔ کہا جاتا ہے کہ مدھوبنی کی کھادی دنیا میں مشہور تھی پیرس کے بازاروں میں دھوم مچائی ہوئی تھی۔ مدھوبنی کھادی اتنی مشہور تھی کہ گاندھی جی اور بنوبا بھاوے جی خود آکر تعریف کرتے تھے۔ یہیں کے بنکروں کے ذریعہ دھوتی پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد کو دی گئی تھی۔ ہاتھ کی انگلی سے پاس کر دیا تھا۔ لیکن آج یہ دستکاری بنکروں کے لیے ایک خواب ہو گئی ہے۔
آج میں آپ کو بنکروں کے لیے محترم سابق وزیراعلیٰ جناب نتیش کمار جی کے ذریعہ مندرجہ ذیل جو یوجنائیں چلائی جا رہی تھیں وہ یہ ہیں:
(1) بنکر کرمشالہ و آواس (ورکشاپ کم رہائش)۔
(2) جدید لوم اور آلات۔
(3) وپنن سہایتا (مارکیٹنگ امداد) کے تحت سائیکل۔
(4) بنکروں کے بچوں کے لیے خاص طور پر تربیت اور وظیفہ۔
(5) بنکر اکثریتی گاؤں میں بجلی اور بنکروں کو ایک تہائی بجلی بل۔
(6) بنکر مرد اور خواتین کو وزیراعلیٰ امدادی یوجنا سے دو لاکھ روپے مفت۔
مذکورہ بالا سبھی یوجنائیں چل رہی تھیں جو فی الحال بند ہیں۔ اسے دوبارہ چالو کیا جائے تاکہ بنکروں کو فائدہ مل سکے۔
جناب سے عرض کرنا ہے کہ کچھ چیزیں قائم کرنے کی ضرورت ہے جو جناب کے ذریعہ کی جا سکتی ہیں
(1) بنکر سیوا مدھوبنی میں قائم کیا جائے۔ جو حکومت ہند کے ماتحت ہے۔
(2) اقلیتی بنکر اکثریتی علاقے میں چھٹی سے اعلیٰ ثانوی اسکول و تربیتی کالج کھلوایا جائے اور ہر سہولت فری کی جائے جو محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے ذریعہ چلایا جا رہا ہے اسے جوڑا جائے۔
(3) بنکر کے پڑھے لکھے بچوں کو ہر محکمے میں 20% ریزرویشن یقینی بنایا جائے۔
(4) کوشل وکاس یوجنا (اسکل ڈیولپمنٹ اسکیم) کو بنکر سیوا سنگھ لمیٹڈ کو چلانے کی اجازت دی جائے۔
(5) بنکر خواتین کو جیویکا دیدی کی طرح کمیٹی خاص طور پر دی جائے۔
(6) بنکر کریڈٹ کارڈ (B.C.C.) جو لاگو تھا اور ہے بھی، بینک کے ذریعہ اس میں دی جانے والی رقم 50% سبسڈی دی جائے۔
لہٰذا محترم سے گزارش ہے کہ جتنی یوجنائیں چلائی جا رہی تھیں اسے دوبارہ چالو کیا جائے۔محمد عقیل انجم۔سکریٹری، بنکر سیوا سنگھ، مدھوبنی بہار
Comments
Post a Comment