راگھوپور میں دل دہلا دینے والے حادثے پر انتظامیہ کی لاپروائی پر سنگین الزامات، متاثرہ خاندانوں سے ملنے کے بعد حکومت پر برس پڑے تیجسوی یادو
ایس ڈی آر ایف کی ٹیم دیر سے پہنچی، ایمبولینس اور آکسیجن کی کمی سے بچوں کی موت کا الزام؛ متاثرہ خاندانوں کو کم از کم 3 ڈسمِل زمین دینے کا مطالبہ
حاجی پور/ راگھوپور
کہا جاتا ہے کہ کفن کا ناپ جتنا چھوٹا ہوتا ہے، لاش کا بوجھ اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ راگھوپور علاقے میں انتظامی لاپروائی اور عدم توجہی کے باعث پیش آئے دل دہلا دینے والے واقعے کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے بعد جو باتیں سامنے آئیں، وہ انتہائی افسوس ناک ہیں۔ اس معاملے کو لے کر بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور این ڈی اے کے دیگر رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے حزب اختلاف لیڈر جناب تیجسوی یادو نے انتظامیہ اور حکومت کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے بعد الزام لگایا گیا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ کو آگاہ کردیا گیا تھا، لیکن اس نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیم تقریباً تین گھنٹے کی تاخیر سے جائے حادثہ پر پہنچی۔ تب تک مقامی لوگوں نے اپنی کوششوں سے تمام متاثرین کو پانی سے باہر نکال لیا تھا۔ یہ الزام بھی لگایا گیا کہ ٹیم کے پہنچنے کے بعد امدادی کارروائی کے بجائے کئی گھنٹے تک کشتی گھمائی جاتی رہی اور فوٹو کھنچوانے پر توجہ دی گئی۔ تیجسوی یادو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مقامی دیہاتیوں اور تیراکوں نے پانی سے جن بچوں کو باہر نکالا تھا، ان میں سے کئی بچے گھنٹوں تک زندہ تھے اور ان کے بچنے کی امید موجود تھی، لیکن محکمۂ صحت کی مبینہ لاپروائی نے ان کی جان نہیں بچنے دی۔ الزام ہے کہ ایمبولینس بھی تاخیر سے پہنچی اور اس میں آکسیجن کی سہولت موجود نہیں تھی۔ کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد جب بچوں کو اسپتال پہنچایا گیا تو وہاں بھی آکسیجن، ادویات اور مناسب علاج کی سہولتوں کی کمی تھی۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ آکسیجن کی کمی کے باعث کم از کم پانچ سے چھ بچوں کی موت ہوئی۔ تاہم، ان الزامات کی سرکاری تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ 21 برسوں سے اقتدار میں رہنے والے حکمراں محض چار لاکھ روپے کے معاوضے کو کافی سمجھنا بند کریں۔ حکومت کی مبینہ لاپروائی اور خستہ حال طبی نظام کے باعث کئی خاندانوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے رونے اور چیخ و پکار کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ فوری طور پر خود جائے وقوعہ پر پہنچیں، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کریں اور ان کی تکالیف سنیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیر صحت سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ تشہیری سرگرمیوں سے باہر نکل کر متاثرہ خاندانوں کے درمیان جائیں اور جواب دیں کہ علاج، ادویات اور آکسیجن کی مبینہ کمی کے باعث نصف درجن سے زائد بچوں کی جان کیوں نہیں بچائی جاسکی۔متاثرہ خاندانوں کے لیے تین ڈسمِل زمین دینے کا مطالبہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ہر متاثرہ خاندان کو کم از کم تین ڈسمِل زمین فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ انتظامی نظام کو مضبوط اور مستعد بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے حادثات کے دوران امدادی کارروائیوں میں تاخیر نہ ہو۔مطالبہ کیا گیا کہ ضرورت کے وقت ایمبولینس بروقت پہنچے، اس میں آکسیجن کی مناسب سہولت موجود ہو اور اسپتالوں میں مناسب علاج، ضروری ادویات اور دیگر طبی سہولتوں کی مکمل دستیابی یقینی بنائی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ بچوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کے معاملے میں ذمہ داری طے کی جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، تاکہ کسی دوسرے خاندان کو اس طرح کے ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس موقع پر سابق وزیر جناب شیو چندر رام، سابق ایم ایل اے جناب ڈاکٹر مکیش روشن و دیگر لیڈران موجود تھے۔ اس دوران تیجسوی یادو نے اپنے والد اور سابق وزیر اعلی جناب لالو پرساد یادو سے بذریعہ موبائل فون پر متاثرہ خاندان کے لوگوں سے بات چیت کرائ اور صبر و تحمل کی تلقین کی ۔
ساتھ میں تصویر ۔
Comments
Post a Comment